زبان کی ہلاکتیں

مَا یَلۡفِظُ مِنۡ قَوۡلٍ اِلَّا لَدَیۡہِ رَقِیۡبٌ عَتِیۡدٌ

سورہ ق آیت ۱۸

ترجمہ: ’’انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا ، مگر اس پر ایک نگراں مقرر ہوتا ہے ، ہر وقت ( لکھنے کے لیے ) تیار !‘‘

* قرآن کی یہ آیت سخت ترین آیات میں سے ایک ہے۔ کیونکہ اس میں انسان کو یہ بتا دیا گیا ہے کہ اس کے منہ سے کوئی لفظ ایسا نہیں نکلتا جس کو دو نگہبان فرشتے لکھنے کے لیے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔ نطق و کلام جہاں انسان کا امتیازی وصف ہے وہیں پہ اللہ نے اس کے درست استعمال کی اہمیت پر بہت زور دیا ہے ۔انسان بولتے ہوئے اتنا غافل اور لاپرواہ ہو جاتا ہے کہ سوچتا نہیں کہ دو حاضر باش فرشتوں سے اس کی کوئی بات چھپ نہیں سکتی۔۔۔۔ زبان کی حفاظت دراصل دین کی حفاظت ہے اور زیادہ بولنے والے کے لیے غلطی کرنے کے مواقع بہت بڑھ جاتے ہیں کیونکہ زبان کا کوئی ایک گناہ تو ہوتا نہیں ہے جس سے انسان بچ سکے۔۔۔۔۔۔ انسان جھوٹ ،غیبت ،لعنت ملامت، فضول گوئی

چغل خوری ،طعنہ زنی ،مذاق اڑانا ،فحش گوئی، اپنی تعریفیں اور بے تکی باتیں وغیرہ ہر وقت کر سکتا ہے اور جو زیادہ بولتا ہے وہ بے وقوف دکھتا ہے اور اس کو یہ نہیں پتہ چلتا کہ اس کو کیا بولنا ہے کیا نہیں بولنا ؟کیا لوگ سننا چاہ رہے ہیں یا نہیں سننا چاہ رہے؟

پھر زیادہ بولنے سے انسان لوگوں کے راز فاش کر بیٹھتا ہے۔ کسی کا دل توڑتا ہے۔ کسی کے عیب ظاہر کرتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے اپنے عیب کھل کر سامنے آ جاتے ہیں۔

* احادیث میں زبان کی حفاظت کے اوپر بہت زور دیا گیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کو جہنم میں اوندھے منہ گرانے والی چیز کہا ہے۔ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

"جو شخص مجھے زبان اور شرمگاہ کی ضمانت دے تو میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں"(بخاری)

آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے زبان کو سختی سے قابو رکھنے کا حکم دیا کیونکہ انسان کا مواخذہ اس کی وجہ سے ہونا ہے اور یہ بھی بتایا کہ انسان کے جسم کے تمام اعضاء زبان سے پناہ مانگتے ہیں کہ اگر وہ ٹیڑھی ہو جائے تو جسم کے باقی اعضا بھی نقصان اٹھاتے ہیں ۔

اگر انسان اپنی زبان کو قابو میں رکھنا سیکھ لے تو وہ بہت سے گناہوں سے بچ سکتا ہے، انسان کبھی بھی اپنے خاموش رہنے پر اتنا شرمندہ نہیں ہوتا ،جتنا وہ بولنے کی وجہ سے شرمندہ ہوتا ہے ۔ بعض اوقات انسان بولتے ہوئے یہ بھول جاتا ہے کہ زبان و دل کے درست یا غلط ہونے پر اس کی دنیا اور آخرت کا دارومدار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ فرمایا :

"جو شخص خاموش رہا وہ نجات پا گیا"(ترمذی )

اور ایک جگہ پر یہ بھی فرمایا کہ "جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ اچھی بات کرے ورنہ خاموش رہے"۔( بخاری )

حقیقت یہ ہے کہ زبان کی عبادت اللہ کا ذکر ہے اور اس کی عافیت خاموش رہنے میں ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان بالکل ہی منہ کو سی لے، بلکہ بری باتوں سے پرہیز کرے اور بولنے میں احتیاط برتے۔ انسان جب بھی کوئی بات کرے تو اسے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ آیا اس میں نفع یا فائدہ موجود ہے، اگر اس میں کوئی نفع نہیں تو اس کو رک جانا چاہیے ،وہ صرف مصلحت آمیز بات کر سکتا ہے یا جب کلام کرنا مناسب ہو۔

مختصراً یہ کہ زبان کی آفتیں انسان کے لیے بہت زیادہ خطرناک ہیں اس سے انسان خود اپنا دشمن بن جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بولنے میں جتنی احتیاط کر سکتے ہیں کریں تاکہ ایسا نہ ہو کہ ہم اپنی آخرت اس کی وجہ سے برباد کر لیں ۔

زبان کی ہلاکتیں:

کیا میں زبان کا استعمال درست طریقے سے کرتی ہوں؟

1۔کیا میں سوچ کر بولتی ہوں یا بول کر سوچتی ہوں یا نہ پہلے سوچتی ہوں اور نہ بعد میں؟

2۔جھوٹ یا دروغ گوئی تو نہیں کرتی ہوں؟

3۔کیا دوسروں کے عیب نکالنا یا ان کے پیٹھ پیچھے غیبت کرنا میرا مسئلہ ہے؟

4۔کیا میں فالتو باتیں اور فضول گفتگو کرتی ہوں؟

5۔محفل کے راز یا کسی کی پوشیدہ باتیں دوسروں تک تو نہیں پہنچاتی؟

6۔کہیں میں ذومعنی باتیں تو نہیں کرتی؟

7۔ میں کسی کی نقل تو نہیں اتارتی یا مذاق تو نہیں اڑاتی؟

8۔ کسی پر طنز یا طعنہ تو نہیں کرتی؟

9۔ہر معاملے میں دوسروں پر تبصرے تو نہیں کرتی؟

10۔ سنی سنائی باتوں کو تصدیق کے بغیر بیان تو نہیں کرتی؟

11۔ زبردستی کے مشورے تو نہیں دیتی؟

12۔ اپنی تعریفیں خود تو نہیں کرتی؟

13۔ دوسروں کی خوشامد تو نہیں کرتی؟

14۔ کوئی مجھ پر تنقید کرے تو ہتھے سے اکھڑ تو نہیں جاتی؟

15۔ ہر وقت کسی نہ کسی کےشکوے شکایت تو نہیں کرتی؟

16۔حالات، معاشرے اور سیاست دانوں کی برائیاں تو نہیں کرتی؟

17۔میری باتوں کا زیادہ تر موضوع دنیا سے متعلق تو نہیں ہوتا ہے؟

18۔ کیا میری بات کہنے کا انداز سخت ہوتا ہے؟

19۔کوئی ایسی بات تو نہیں کرتی جس سے مسلمانوں میں تفرقہ پڑے؟

20۔کہیں میں لوگوں پر نیک اور بد ہونے کے فتوے تو نہیں لگاتی؟

21۔اگر کسی کی غیبت ہو رہی ہو تو کیا اس کی طرف داری کرتی ہوں؟

22۔ دوسروں کی بات کاٹ کر تو نہیں بولتی؟

23۔ ناپسندیدہ بات پر فورا غصے میں تو نہیں آجاتی؟

24۔لوگوں سے فالتو باتیں تجسس کے مارے تو نہیں پوچھتی؟

25۔ دوسروں کے معاملے میں ٹانگ تو نہیں اڑاتی؟

26۔ اپنے شوہر، والدین اور اولاد یا قریبی لوگوں کی ناشکری تو نہیں کرتی؟

27۔ ہر بات کو اپنے خلاف سازش یا منصوبہ تو قرار نہیں دیتی؟

28۔ غلطی ہو جائے تو سوری کہہ دیتی ہوں؟

29۔ کوئی احسان کرے تو اس کا شکریہ کرتی ہوں؟ سلام میں پہل کرتی ہوں؟

30۔ لوگوں کو چڑانے والی باتیں تو نہیں کرتی؟

31۔ لوگوں کو اپنی گفتگو کے دوران حقیر ہونے کا احساس تو نہیں دلاتی؟

32۔ دو لوگوں کو لڑانے کے لیے چغلی تو نہیں کرتی؟

33۔ کسی کے بارے میں تعصب تو نہیں برتتی یا بے انصافی کی بات تو نہیں کرتی؟

34۔ کوئی معافی مانگے تو اسے ذلیل تو نہیں کرتی؟

35۔ کسی سے ناراض ہو جاؤں تو اسے کھری کھری تو نہیں سناتی۔

36۔ بہت لمبی بات تو نہیں کرتی؟

37۔ لوگوں کے کمزور پہلو نمایاں تو نہیں کرتی؟

38۔ اپنی نیکیوں کی تشہیر تو نہیں کرتی؟

39۔ لعنت ملامت تو نہیں کرتی اور بددعائیں تو نہیں دیتی؟ گالم گلوچ یا فحش بات منہ سے تو نہیں نکالتی؟

40۔ بد گمانی تو نہیں کرتی؟ لوگوں کی نیت پر شک تو نہیں کرتی؟